17 ستمبر 2011 - 19:30

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ علی اکبر صالحی نے تہران کی جانب سے مشرق وسطی کے عرب ممالک کے عوامی قیام کی حمایت پر تاکید کی ہے۔

ابنا: علی اکبر صالحی نے آج تہران میں اسلامی بیداری کانفرنس کے دوسرے دن تقریر کرتے ہوۓ کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران دوسرے ممالک میں مداخلت کۓ بغیر اپنے شہری حقوق کی بازیابی اور اپنی تقدیر اپنے ہاتھ میں لینے پر مبنی خطے کی اقوام کے اجتماعی فیصلے کا احترام کرتا ہے۔

علی اکبر صالحی

اسلامی جمہوریہ ایران کے وزیر خارجہ نے بعض ممالک کی جانب سے خطے کی عرب اقوام کے جائز مطالبات کی راہ میں رکاوٹیں کھڑی کرنے کی کوششوں کے بارے میں خبردار کرتے ہوۓ کہا کہ عرب ممالک کی عوامی تحریکوں میں یورپ خاص کر امریکہ اور صہیونی ریاست کے اتحادیوں کی مخالفت کو بنیادی حیثیت حاصل ہے جن کی پالسیوں کو ان عوامی تحریکوں نے ناکام بنا کر رکھ دیا ہے۔علی اکبر صالحی نے خطے کے عرب ممالک میں عوامی تحریکوں کے سلسلے میں عالمی برادری خاص کر امریکہ اور صہیونی ریاست کے حیران اور ششدر ہو جانے کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ زور دے کر کہا کہ اسلامی جمہوریہ ایران واحد ایسا ملک ہے جس کو ان عوامی تحریکوں پر کوئي حیرت نہیں ہوئي اور اسے خطے کی صورتحال کے پیش نظر ان عوامی تحریکوں کی توقع تھی۔

ابراہیم جعفری برہان الدین ربانی کے ساتھدریں اثناء عراق کے سابق وزیر اعظم ابراہیم جعفری نے تہران میں بلائي جانے والی اسلامی بیداری کانفرنس کو عرب ممالک میں جاری عوامی تحریکوں کی حمایت کی اسٹریٹیجی قرار دیا ہے۔ ابراہیم جعفری نے تہران میں اسلامی بیداری کانفرنس کے موقع پر اس کانفرنس کی صحافتی اور سیاسی اہمیت کی جانب اشارہ کرتے ہوۓ کہا کہ یہ کانفرنس عرب ممالک میں جاری عوامی تحریکوں کی حمایت کے لۓ اسٹریٹیجی پروگراموں کی حامل ہے۔ابراہیم جعفری نے تہران میں منعقد ہونے والی اسلامی بیداری کانفرنس کو مسلمان رہنماؤں کے لۓ ایک دوسرے سے آگاہ ہونے اور عرب اور اسلامی ممالک کے مسائل کے حل کے لیے ایک مناسب موقع قرار دیا۔ادھر فلسطین کی اسلامی مزاحمتی تحریک حماس کے سیاسی دفتر کے سربراہ موسی ابو مرزوق نے کہا ہے کہ یورپ والے خطے کی عوامی تحریکوں کو اپنے مفاد میں ہائی جیک کرنے کے لۓ کوشاں ہیں۔ موسی ابومرزوق نے اسلامی بیداری کانفرنس میں تقریر کرتے ہوۓ مزید کہا کہ اگرچہ عالمی سامراج ہمیشہ بیداری کی تحریکوں کو کچلنے کی کوشش کرتا ہے لیکن آج یورپ موجودہ بیداری کی تحریک کو اس کے اصل راستے سے ہٹانے کی کوشش کر رہا ہے۔ابومرزوق نے مزید کہا کہ یورپ والے انقلابیوں کی حمایت اور آزادی کی بات کرتے ہیں لیکن پس پردہ ان عوامی تحریکوں کو ہائی جیک کرنے کے اقدامات انجام دیتے ہیں اور دوبارہ جابرانہ حکومتیں قائم کرنے کے درپے ہیں۔............ /169